اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔: رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہجری شمسی سال 1392 کے آغاز کی مناسبت سے 1 فروردین مطابق 21 مارچ کو مقدس شہر مشہد میں فرزند رسول حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں خدام اور زائرین کے عظیم الشان اجتماع سے انتہائی اہم خطاب میں گزشتہ سال 1391 ہجری شمسی کے دوران دشمنوں کی جانب سے وسیع پروپیگنڈے اور خلل اندازی کے باوجود ملت ایران کو حاصل ہونے والی عظیم بنیادی کامیابیوں اور پیشرفت کا جائزہ لیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے امریکا سے مذاکرات کے مسئلے میں کلیدی نکات بیان کئے اور اقتصادی جہاد بالخصوص تیل کی آمدنی پر انحصار ختم کرنے، دراز مدتی اقتصادی پالیسیوں پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور دشمن کی سازش کے اجراء سے پہلے ہی دانشمندانہ تدارک کرنے کے لوازمات اور شرائط بیان کئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے سیاسی جہاد کے سلسلے میں مجوزہ صدارتی انتخابات کا ذکر کیا اور اسے سیاسی جہاد کا مظہر قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ انتخابات میں اسلامی جمہوری نطام پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ہونی چاہئے اور اللہ تعالی کی عنایتوں اور ملت ایران کی بلند ہمتی سے انتخابات میں وسیع شراکت ہونی چاہئے کیونکہ صدارتی انتخابات کے اثرات ملک کے تمام بنیادی امور پر مرتب ہوتے ہیں۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملت ایران کو سال نو کی مبارکباد دیتے ہوئے گزشتہ سال کی کامیابیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور اس وسیع جائزے کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح انسان کو انفرادی اور شخصی مسائل میں دائمی جائزے اور محاسبے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح امور مملکت میں بھی قومی جائزہ اور محاسبہ بہت اہم کام ہوتا ہے، کیونکہ اس سے عبرت مل سکتی ہے اور مستقبل کے لئے اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی کارکردگی اور کامیابیوں پر مختلف ممالک کے عوام اور دانشور طبقوں کی خصوصی توجہ، اس کے تجربات سے استفادہ کرنے کی کوشش، اسی طرح ایران کی بڑی کامیابیوں اور ممکنہ خامیوں پر دشمنوں کی تیز نگاہوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس حقیقت کے مد نظر ملت ایران کو چاہئے کہ وسیع النظری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے اور ملکی حالات کی صحیح تصویر اس کے ذہن میں واضح ہو۔ قائد انقلاب اسلامی نے صرف گرانی، بعض پیداواری یونٹوں میں پیداوار کی کمی اور اقتصادی دباؤ جیسے مسائل کو بنیاد بناکر لئے جانے والے جائزے کو نادرست قرار دیا اور فرمایا کہ صحیح طرز فکر یہ ہے کہ چیلنجوں سے بھرے ہوئے عظیم میدان میں ملت ایران کی مشکلات اور خامیوں کے ساتھ ہی اس کی عظیم کامیابیاں بھی مد نظر رکھی جائیں، قائد انقلاب اسلامی کے بقول اس طرح انجام پانے والے وسیع جائزے کے نتیجے میں ملت ایران کی سربلندی اور ممتاز حیثیت کا اندازہ ہوگا۔رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی حکام کے بیانوں کا حوالہ دیا جس میں وہ آشکارا کہتے ہیں کہ پابندیاں ملت ایران کی کمر توڑ دینے کے لئے عائد کی گئی ہیں، آپ نے فرمایا کہ مقابلے کے اس میدان میں ملت ایران نے بہترین دانشمندی، توانائی اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کیا ہے اور کھیل کے میدان کے کسی چیمپین کی طرح سخت اجتماعی محنت اور سعی و کوشش کے بعد میدان سے فتحیاب ہوکر نکلے گی اور سب لوگ عش عش کر اٹھیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ملک اور داخلی حالات کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یقینا اس عظیم میدان کی فاتح ملت ایران ہی نظر آئے گی۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ چیلنجوں سے بھرے اس میدان میں ملت ایران کی کامیابیوں کا یہ عالم ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک یہاں تک کہ ایران کے بدخواہ ملکوں کے اندر بھی سیاسی شخصیات اور دانشور طبقے سے تعلق رکھنے والے باریک بیں افراد بھی ایران کی تعریف کر رہے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی ترقی و پیشرفت سے ہمیشہ ناراض رہنے والے گروہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ گروہ در اصل ملت ایران کا اصلی دشمن ہے جو ملت ایران کی پیشرفت کے سلسلے کو روکنے کے لئے دو طریقے اختیار کرتا ہے؛ ایک ہے عملی رکاوٹیں پیدا کرنا جیسے پابندیاں، دھمکیاں اور حکام، مفکرین اور عوام کو فروعی اور غیر ترجیحی کاموں میں الجھا دینا اور دوسرے ملت ایران کی پیشرفت پر پردہ ڈالنے اور اس کے بعض نقائص کے بارے میں مبالغہ آرائی کے لئے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرنا۔ آپ نے سنہ 1391 ہجری شمسی کو اس زاوئے سے ملت ایران کے بدخواہوں کا بہت مصروف سال قرار دیا اور فرمایا کہ انہوں نے ملت ایران کی کمر توڑ دینے اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کو اپنا ہدف قرار دیا تھا، اب اگر ملت ایران اتنے دباؤ کے بعد بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی رہے اور روز بروز ترقی کی منزلیں طے کرے تو دشمنوں کی آبرو چلی جائیگی۔ اس کے بعد قائد انقلاب اسلامی نے دو بنیادی سوال اٹھائے۔ 1؛ ملت ایران کے خلاف سازشوں کا اصلی مرکز کہاں ہے؟ 2؛ اس قوم کے دشمن کون لوگ ہیں؟رہبر انقلاب اسلامی نے پہلے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ملت ایران کے خلاف سازشوں کا اصلی مرکز امریکا ہے اور آج چونتیس سال کا عرضہ گزر جانے کے بعد جب بھی دشمن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو ایرانی عوام کے ذہن فوری طور پر امریکا کی جانب مڑ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ امریکی حکام کو چاہئے کہ اس مسئلے پر غور کریں اور خود سے یہ سوال کریں کہ دشمن کا لفظ سن کر ایرانی عوام کے ذہن میں امریکا کا نام کیوں آتا ہے؟رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران کے دشمنوں کے سلسلے میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ امریکا کے علاوہ جو سازشوں کا مرکز اور سب سے بڑا دشمن ہے، کچھ اور بھی دشمن موجود ہیں جن میں ایک خبیث برطانوی حکومت ہے تاہم اس کی اپنی علاحدہ کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ امریکا کے پیچھے پیجھے لگی رہتی ہے اور امریکی حکومت کا ہاتھ بٹانے کا کام کرتی ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں ایک نکتہ فرانسیسی حکومت کے بھی گوشزد کیا، آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو فرانسیسی عوام اور حکومت سے کوئی مشکل نہیں ہے لیکن حالیہ برسوں میں فرانس کی حکومت نے خاص طور پر سارکوزی کے زمانے سے ملت ایران کے سلسلے میں آشکارا طور پر معاندانہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اور یہ غلط پالیسی بدستور جاری ہے جو غیر دانشمندانہ کام ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے صیہونی حکومت کے سلسلے میں فرمایا کہ غاصب صیہونی حکومت کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ ملت ایران کے دشمنوں میں اس کا شمار کیا جائے۔ ایران پر فوجی حملے سے متعلق بعض صیہونی حکام کے بیانوں کا حوالہ دیتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر انہوں نے حماقت کی تو اسلامی جمہوریہ ایران تل ابیب اور حیفا کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیگا۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران کے ان چند دشمنوں کے لئے امریکی ہمیشہ غلط طریقے سے عالمی برادری کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں حالانکہ عالمی برادری اسلامی مملکت ایران اور ایرانی عوام سے کوئی دشمنی نہیں رکھتی۔رہبر انقلاب اسلامی نے ان چند دشمنوں کا ذکر کرنے کے بعد سنہ 1391 ہجری شمسی مطابق مارچ 2012 الی مارچ 2013 عیسوی، کے دوران ان کے معاندانہ اقدامات کی تشریح کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایرانی عوام سے ظاہری طور پر اظہار دوستی کے ساتھ ہی امریکیوں نے آغاز سال سے ہی ایران پر تیل اور بینکنگ شعبے میں شدید اور وسیع تر پابندیاں عائد کر دیں اور ان کا یہ اصرار ہے کہ ان معاندانہ اقدامات کے باوجود بھی انہیں دشمن نہ سمجھا جائے۔رہبر انقلاب اسلامی نے اس پالیسی کو مخملیں دستانے میں کرخت آہنی ہاتھ والی پالیسی سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ انہوں نے اس ظاہری فریب دہی کے ساتھ ہی ایک منصوبہ بند کارروائی کا آغاز کر دیا اور اس امید میں لگے رہے کہ چند ماہ بعد ملت ایران ان کی دھونس کے سامنے جھک جائیگی اور اپنی ترقی پذیر علمی سرگرمیاں روک دیگی لیکن عملی طور پر جو کچھ پیش آیا وہ بدخواہوں کے اندازے اور خواہش کے برخلاف تھا۔رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں پابندیوں کے اثرات اور اس سلسلے میں بعض ایرانی حکام کے بیانوں پر امریکی حکام کے اظہار مسرت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بیشک پابندیوں سے اثر تو پڑا ہے لیکن اس کا وہ اثر نہیں ہوا جس کی آس انہیں تھے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر پابندیوں کا اثر ہوا ہے تو اس کی وجہ ملکی معیشت کا تیل کی آمدنی پر انحصار ہے، لہذا اب ضروری ہے کہ آئندہ حکومت تیل کی آمدنی سے بے نیاز معیشت کو اپنا بنیادی منصوبہ اور اہم ترین ترجیح قرار دے۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسی ضمن میں چند سال قبل کے اپنے اس خطاب کا حوالہ دیا جس میں آپ نے ملک کو اس مقام پر پہنچانے پر تاکید کی تھی جہاں تیل کے کنوؤں کو بند کرکے تیل کی آمدنی کے بغیر ملک کو چلانا ممکن ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں بعض حضرات جو بقول خویش ٹکنوکریٹ تھے اس بات پر معنی خیز ہنسی ہنستے تھے اور فرماتے تھے کہ کیا یہ محال چیز ممکن ہو سکتی ہے؟ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ تیل کی آمدنی سے بے نیاز معیشت حد امکان میں ہے لیکن اس کے لئے درست منصوبہ بندی اور اس کے اجراء کی ضرورت ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے سنہ 1391 ہجری شمسی کے دوران ملت ایران کے خلاف اقتصادی میدان میں دشمنوں کے معاندانہ اقدامات کی تشریح کرنے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم پر ان کی ریشہ دوانیوں کا جائزہ لیا۔ آپ نے فرمایا کہ سیاسی میدان میں ملت ایران کے بدخواہوں کی ایک سازش اسلامی نطام کو تنہا کرنے کی کوشش تھی لیکن تہران میں ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کے انعقاد، اجلاس میں ناوابستہ ممالک کے سربراہوں اور اعلی رتبہ حکام کی شرکت اور سائنس و ٹکنالوجی اور معیشت کے شعبے میں ایران کی حیرت انگیز ترقی کی چار سو تعریفوں سے دشمن کی یہ سازش بری طرح ناکام ہوئی۔رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی عوام کے اندر تشویش و تامل پیدا کرنے اور انہیں اسلامی نطام سے دور کرنے کی کوششوں کو سیاسی میدان میں دشمنوں کی دوسری بڑی سازش قرار دیا اور فرمایا کہ بائیس بہمن (جشن انقلاب کی تاریخ) کے جلوسوں میں عوام کی پرجوش شرکت اور اسلام و اسلامی نظام سے ان کا والہانہ اظہار عقیدت دشمنوں کے منہ پر زوردار طمانچہ تھا۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سیکورٹی کے شعبے میں بھی دشمنوں کی ناکامیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی و عالمی اثر و نفوذ میں کمی لانے کی ناکام کوششوں کو دیگر معاندانہ اقدامات قرار دیا اور فرمایا کہ آٹھ روزہ جنگ غزہ میں فلسطینیوں کے لئے ایران کی مقتدرانہ پشت پناہی اور فلسطینی مجاہدین کے سامنے صیہونی حکومت کی شرمناک شکست اور علاقائی مسائل کے ایران کی مدد کے بغیر ناقابل حل ہونے کے دشمنوں کے اعترافات، اس میدان میں دشمنوں کی سازشوں کی ناکامی کی دلیلیں ہیں۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ تمام تر دباؤ، دشمنیاں اور خاص طور پر پابندیاں اپنے منفی اثرات کے ساتھ ہی مثبت نتائج کا ب
رہبر معظم انقلاب کا نہایت اہم خطاب
اگر اسرائیل ایران پر حملے کی حماقت کرتا ہے تو تل ابیب اور حیفہ کو خاک میں ملا دیں گے
21 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 401935
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے شمسی سال ۱۳۹۲ کے پہلے دن مشہد مقدس امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں لاکھوں زائرین سے خطاب میں فرمایا کہ ایران کے مقابلے میں اسرائیل انتہائی چھوٹا اورکمزور ہے۔ اگر وہ حماقت کر کے ایران پر حملے کرتا ہے تو ہم تل ابیب اور حیفہ کو خاک میں ملا دیں گے